Saturday, 18 April 2015

زيدي شيعه اور اثناعشری شیعه میں کیا فرق ھے؟؟

زيدي شيعه اور اثناعشری شیعه میں کیا فرق ھے؟؟



زيدي شيعه اور اثناعشری شیعه میں کیا فرق ھے؟؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم*
جب سے یمن کی صورتحال پیش نظر ھے پاکستان میں ایک بحث چھیڑی ھوئی ھے کہ یمن کی اکثریت جو زیدی شیعہ کہلاتے ھیں اور حوثی تحریک کے لوگ بھی اس مذھب کے پیروکار ھیں،تو ان کا اثناعشری یعنی جعفری فرقہ سے کن امور پر اختلاف یا الگ عقیدہ یا فروعی فرق ھے.چند اھل علم برادران نے اس کو واضح کرنے کی مجھ سے درخواست کی ھے. انشاء اللہ اس فرق کو ھم ایک آرٹیکل کی صورت میں پیش کر رھے ھیں.ھم دونوں فرقوں کے اکثریتی یا اجماع پر مبنی موقف کو پیش کرتے ھیں علما کے شذرات کو ان نکات میں شامل نہیں کیا گیا ھے متفق علیہ مسائل فرقہ کو پیش کیا گیا ھے.انشاء اللہ آپ کی معلومات میں اضافہ ھوگا.
والسلام (ایڈمن)
ﺯﻳﺪﻱ ﺷﻴﻌﻪ ﺍﻭﺭ ﺍﺛﻨﺎﻋﺸﺮﯼﺷﯿﻌﻪ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﮬﮯ؟؟
+زیدی شیعوں کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ھے.
* اثناعشری شیعوں کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ خلیفۃ بلا فصل
+ زیدی شیعہ کے مطابق امام معصوم نہیں ھوتا
* اثناعشری کے مطابق امام معصوم عن الخطاء ھوتا ھے.
+زیدی شیعہ کے مطابق امامت کا سلسلہ تاقیامت جاری رھے گا اور ان کا پچھلا امام 2007 میں فوت ھوا
* اثناعشری کے مطابق امامت 12 اماموں تک محدود ھے اور امام مھدی آخری امام ھیں.
+ زیدی شیعہ کے ھاں امام منصوص من اللہ نہیں ھے بلکہ صاحب اخیار حسنی وحسینی فاطمی،اپنے زمانے کا سب سے زیادہ دینی علم رکھنے والا امامت کے شرائط رکھنے والا بیعت کے بعد امام بن جاتا ھے.
*اثنا عشری کے ھاں بارہ امام منصوص و منصوب من اللہ ھے.
+زیدی شیعہ کے ھاں نابالغ بچہ امام نہیں بن سکتا بلوغت شرط ھے
*اثناعشری کے 3 امام بلوغت کے عمر سے قبل ھی امام بنے تھے.
+زیدی شیعہ اذان میں اشھد ان علیا ولی اللہ نہیں پڑھتے.ایسا کرنا بدعت ھے.
*شیعہ اثناعشری اذان میں اشھد ان علیا ولی اللہ پڑھتے ھیں.
+ زیدی شیعہ اذان کے آخر میں صرف ایک بار لا الہ الا اللہ پڑھتے ھیں.
* اثناعشری شیعہ دو بار لا الہ الا اللہ پڑھتے ھیں.
+ زیدی شیعہ وضو میں اھل سنت کی طرح دونوں پاؤں دھوتے ھیں.
*اثناعشری شیعہ دونوں پاؤں پر مسح کرتے ھیں.
+ زیدی شیعہ پانچ وقت کی نماز الگ الگ پڑھتے ھیں.
* اثناعشری شیعہ جمع بین الصلاتین کی وجہ سے ظھرین اور مغربین پڑھتے ھیں.
+ زیدی شیعہ کے ھاں کتاب التجرید کے مطابق نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرنا ضروری ھے جس کے بغیر نماز مکمل نہیں(ناقص ھے).
* اثناعشری کا طریقہ تسلیم نماز کا زیدیہ سے مختلف ھے.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﻮﮞ کے نزدیک امام مھدی ابھی پیدا نہیں ھوئے قیامت کے قریب پیدا ھوں گے.امام حسن عسکری ع کا کوئی بیٹا نھیں تھا آپ لاولد فوت ھوگئے.
* فرزند حسن عسکری پیدا ھوچکے وھی امام مھدی ھیں.
+زیدی شیعہ کے مطابق امام مھدی فرزند حسن عسکری غائب نہیں،اس لئے ان کی رجعت اور ظھور کا عقیدہ درست نھیں.
*اثناعشری عقیدہ رجعت وغیبت امام مھدی کے قائل ھیں.
+ زیدی شیعہ کے مطابق گناہ کبیرہ کرنے والا بغیر توبہ کے مر جائے تو ھمیشہ ھمیشہ کیلئے دوزخ میں رھے گا وھاں سے چھٹکارا حاصل نہیں ھوگا.
*اثناعشری کا موقف اس سے مختلف ھے.
+ زیدی شیعہ کے نزدیک رسول اللہ ص کی چار حقیقی بیٹیاں تھیں البتہ فاطمہ علیھا السلام چاروں میں سب سے افضل تھی.
* صرف حضرت فاطمہ کو اکثر اثناعشری حقیقی اکلوتی بیٹی مانتے ھیں.(اس پر اثناعشری میں اختلاف ھے)
+زیدی شیعہ کے مطابق حضرت عثمان رسول اللہ ص کے حقیقی داماد تھے جن کے ساتھ رسول ص نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کرائی.
*اثناعشری کے مطابق حضرت عثمان رسول ص کے حقیقی داماد نہیں تھے.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ کے مطابق آئمہ اور رسول ص حاضر و ناضر نہیں،یہ صرف خدا کی صفات ھیں.
* اثناعشری معدودے چند کو چھوڑ کر آئمہ ورسول کو حاضرو ناضر کا عقیدہ ھے.
+زیدی شیعہ کے نزدیک علم غیب صرف خدا سے مخصوص ھے اور اس کو آئمہ ع ورسول ص میں ماننا مشبہ کا عقیدہ ھے اور ایسا کھنے والا فاسق ھے.
*اثناعشری میں چند ایک کے علاوہ اکثر ماکان وما یکون علوم غیب کو آئمہ میں مانتے ھیں.
+زیدی شیعہ کے نزدیک نکاح متعہ اور نکاح سری حرام اور زنا ھے.
*نکاح متعہ اثناعشری شیعہ کے ھاں جایز ھے.
+ زیدی شیعہ آئمہ کیلئے ولایت تکوینی کا قائل نہیں.
*اثناعشری میں ولایت تکوینی کا عقیدہ اکثر کا ھے.
+زیدی شیعہ کے ھاں رسول کا سایہ نہ ھونے کی کوئی روایت نہیں،اس لیے رسول کے متعلق سایہ نہ ھونے کا کوئی عقیدہ یا تصور زیدی شیعہ میں نہیں.
*اثناعشری میں معدودے چند کو چھوڑ کر رسول کو نور کا سمجھ کر سایہ نہ ھونے کاعقیدہ ھے.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ ھاں خمس مکاسب نہیں،بلکہ مال غنائم سے متعلق ھے.
*اثناعشری شیعہ عوام خمس دیتے ھیں.
+زیدی شیعہ نماز کیلئے سجدگاہ یا تربہ نہیں رکھتے.
*اثناعشری سجدگاہ یا تربہ حسینی رکھتے ھیں.
+زیدی شیعہ ماتم زنجیرزنی قمہ زنی نہیں کرتے.
*اثناعشری یہ سب کرتے ھیں.
+زیدی شیعہ سیرت حسینی ع کو بیان کر کے وقت کے ھر یزید کے خلاف عملی جدوجھد اور خروج کرتے ھیں.اور مراسم عزاداری،علم تابوت ذںالجناح کا تصور ان کے ھاں نہیں.
*اثناعشری شیعہ کے ھاں شعائر حسینی اور اعمال شبیہ کے نام سے یہ سب رائج ھیں.
+زیدی شیعہ دوسرے مسلمان فرقوں کے پیچھے بغیر کسی تقیہ کے نماز ادا کرتے ھیں.یہی وجہ ھے کہ اکثر یمن کے مساجد کے متعلق معلوم کرنا مشکل ھوجاتا ھے کہ کس فرقہ کے زیر اثر ھے
*اثناعشری شیعہ کے ھاں تقیہ کر کے فرادی کی نیت سے اھل سنت وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ھیں.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ نزدیک اثناعشری شیعہ بہت سے گمراہ اور باطل عقائد وافکار رکھتے ھیں جن کے رد میں اکثر زیدی علما وآئمہ نے "الرد علی الروافض(رافضیوں کا رد)"کے نام سے کتب لکھی ھیں.
* اثناعشری شیعہ کے نزدیک زیدی شیعہ بھی ناصبی اوردشمن اھل بیت ع ھیں چونکہ جو اثناعشری کے اماموں میں سے ایک کا انکار کرے وہ ناصبی و کافر ھے.دنیا میں اسلام کے احکام اس پر نافذ ھوں گے تقیتا آخرت میں جھنمی اور کافروں کے ساتھ محشور ھوں گے.شیخ مفید نے زیدیوں کے متعلق بھی یہی کہا ھے.
+ زیدی شیعہ کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنت اھل بیت ع و رسول ص ھے.
*اثناعشری شیعہ کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنت بنی امویہ ھے .
+زیدی شیعہ کے نزدیک حضرت فاطمہ کا گھر جلانا اور سقط محسن کا قصہ درست نہیں.
* اثناعشری شیعہ کی اکثریت سوائے چند ایک کے واقعہ ھجوم اور گھر جلانے اور سقط محسن کو درست مانتے ھیں.
+زیدی شیعہ کے نزدیک سب وشتم اور لعن اھل بیت ع کی سیرت اور تعلیمات کے خلاف ھیں.
* اثناعشری کے ھاں سب وشتم اور لعن درست ھے اور لعنت پر مشتمل زیارت عاشورا، دعائے صنمی قریش اکثر مجالس ومحافل کا لازمی جزو ھے،چند علما جو ان زیارات اور لعن کا انکار کرتے ھیں ان کو مقصر،بتری،ضال و مضل کے القابات سے نورازتے ھیں.
+خلفائے ثلاثہ حضرت ابوبکر وعمر وعثمان کے متعلق اکثر زیدی شیعہ وقوف،یعنی نہ سب وشتم لعنت وتبرا کرنا اور نہ ھی رضی اللہ عنہ کہنے کے قایل ھیں.جب کہ شروع سے اب تک ایک کم تعداد زیدی شیعہ ترضیہ یعنی ان خلفائے ثلاثہ سے رضامندی اور ان کیلئے رضی اللہ عنہ کہتے ھیں.
*اثناعشری شیعہ کے ھاں ان دو موقف ترضیہ اور وقوف کی بجائے تبرا اور لعنت سب وشتم کا کلچر ھے.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ أئمہ و رسول کا وسیلہ تو جائز ھے،اسی طرح ان کو صرف "یارسول" یا علی پکارنا شرک نہیں،لیکن ان سے کچھ مانگنے کی نیت یا ان سے مخاطب ھوکر حاجت مانگنا مثلا یا علی مدد کہنا یا ناد علی پڑھنا اور براہ راست ان سے مانگنا شرک باللہ ھے.
*اثناعشری کے ھاں یا علی مدد،ناد علی وغیرہ رایج ھے.
+زیدی شیعہ کے نزدیک انبیاء ع آئمہ ع اور حضرت فاطمہ ع سے افضل ھیں.
*اثناعشری میں آج کے دور میں آئمہ ع کو انبیا سے افضل سمجھنے والا طبقہ ھی موجود ھے.اگرچہ قدیم دور میں ایک قلیل تعداد اثناعشری کا انبیاء کوآئمہ ع سے افضل سمجھتے تھے.
+زیدی شیعہ کی بنیادی کتاب مسند امام زید ع ھے.اس کے علاوہ امالی امام احمد بن عیسی،امالی ابوطالب،امالی مرشد باللہ بھی زیدی شیعہ کی بنیادی کتب ھیں.
*الکافی،استبصار،من لا یحضرہ الفقیہ،تہذیب اور بحاروغیرہ اثناعشری کی کتب ھیں
+زیدی شیعہ کے نزدیک اھل سنت کے آئمہ اربعہ بالخصوص امام مالک اور ابوحنیفہ جو امام زید ع کے شاگرد تھے محب اھل بیت ع تھے اور امام ابوحنیفہ نے امام زید ع کی جھاد و معاونت کیلئے 900 درھم بھیجے .
*اثنا عشری ابوحنیفہ کو دشمن اھل بیت قرار دیتے ھیں جن پر روایات اثناعشری کے مطابق امام جعفر صادق ع نے لعنت کی.
+زیدی شیعہ غروب آفتاب کے بعد فاصلہ احتیاتی نہیں رکھتے بلکہ غروب کے ساتھ اذان و افطار کرتے ھیں.
*اثناعشری شیعہ اکثر فاصلہ احتیاطی کے قایل ھیں.چند مجتھدین البتہ اس کے قایل نہیں.
+ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ تبری زبان سے کسی کو سب و شتم کرنا نہیں بلکہ عمل سے برات و لاتعلقی ظاھر کرنا ھے.
* اثناعشری زبانی تبری اور سب وشتم کرتے ھیں.
+نکاح کیلے دو گواہ اور اعلان شرط ھے زیدی شیعہ کے ھاں.
* متعہ جو اثناعشری کے ھاں مروج ھے اس میں یہ شرایط مفقود ھے.
+امام مھدی ع امام حسن ع یا پھر امام حسین ع
کی اولاد سے ھونگے
یہ خدا کی مرضی پر موقف ھے.اور امام حسن عسکری ع لاولد فوت ھوئے.
*امام مھدی اثناعشری کے مطابق اولاد امام حسین سے پیدا ھوچکے اور فرزند حسن عسکری ھے.
+ اصحاب سے بڑی بڑی غلطیاں ھوئیں لیکن ان کو مرتد اور خارج از اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا.اس لیے چند اشخاص کے علاوہ باقی اصحاب کے متعلق ترضیہ و توقف دونوں موقف موجود ھیں.اور انصار ومھاجرین کی قربانیاں شروع اسلام میں مسلم ھیں.لیکن ان سے بعض بڑی غلطیاں ھوئیں لیکن مولا علی ع نے ان سے متعلق جو رویہ اپنایا اس کی پیروی لازمی ھے.
*اصحاب میں سے اکثر سوائے چند کے منافق تھے اور رسول کی وفات کے بعد مرتد ھوگئے.اور شروع سے ھی مخلص نہیں تھے.
+زیدی شیعہ کی اکثریت یمن،پھر سعودی عرب اور اس کے بعد عمان و افریقہ میں پائے جاتے ھیں.ان کا مرکز علم یمن ھے.
*اثناعشری اکثریتی ملک ایران،پھر عراق و لبنان وغیرہ ھیں اور ان کا علمی مرکز نجف وقم ھے.
یہ کل 40 فرق اثناعشری اور زیدی شیعہ کے درمیان بیان ھوئے جس پر ھمارے اس آرٹیکل کا اختتام ھوا چاھتا ھے.اگرچہ اتنے سارے فرق موجود ھیں لیکن جتنے فرق بیان ھوئے وہ کسی حد تک اس فرق کو سمجھنے کیلئے کافی ھے.والسلام
تحریر وترتیب
ایڈمن :بی ایم این بلتستانی

No comments:

Post a Comment