Saturday, 18 April 2015

زیدی شیعہ ایک دلچسپ فرقہ



زیدی شیعہ امت مسلمہ کا ایک قدیم ترین فرقہ ہے جن کا شمار شیعہ مذھب کے 3 اہم فرقوں مین سے ہوتا ہے۔زیدی شیعہ خود کو اہل بیت ع کے فقہ کے اصل پیروکار سمجھتے ہین۔

زیدی شیعہ امام زین العابدین ع کے بعد ان کے بیتے امام زید ع کو امام باقر ع کی بجائے امام مانتے ہین۔پس اثنا عشری شیعون کے ساتھ زیدی شیعون کا سلسلہ امامت امام زین العابدین ع کے بعد مختلف ہے۔زیدیون کا سلسلہ امامت تاحال جاری ہے،کیونکہ ان کے ہان آئمہ اہل بیت ع کی زبانی ایک حدیث مروی ہے کہ ہر 100 سال بعد میرے اہل بیت مین سے ایک امام لوگوں کی اصلاح و ھدایت کی دعوت دے گا اور ان کو سدھارین گے،اور 2007 میں زیدیون کاپچھلا امام،امام مجدد الدین المؤیدی فوت ہوگئے۔

زیدی شیعہ ایک دلچسپ فرقہ ہے جن کا علمی ذخیرہ دیگر فرق اسلامی سے اس لحاظ سے وسیع ہے کہ ان کا امام اپنے وقت کا سب سے زیادہ علم والا شخص ہوتا ہے،اور ان کے ھر امام نے کوئی نہ کوئی کتاب ضرور لکھی ہے یا املا کرائی ہے ۔خصوصا امام زید ع کے فقہی احکام پر مشتمل مسند امام زید ع اور قرآن مجید کی قدیم ترین تفسیر بزبان اہل بیت ع تفسیر گریب القرآن جو کہ امام زید ع کی ہے ایک شاہکار تالیف ہے اور مصر کے جامع ازھر مین ایک پی ایچ ڈی مقالہ میں اس کتاب کا معتبر طرق سے امام زید ع سے وارد ہونا ثابت کیا گیا ہے۔

زیدی شیعہ چونکہ امام زین العابدین کے بعد حسنی اور حسینی آئمہ اہل بیت ع میں امامت کو مانتے ہیں اس لئے امام زید کے بعد ان کے بیٹون اور اس کے علاوہ امام حسن کے بیٹے حسن المثنی ع کو بھی اپنا امام مانتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ زیدی شیعون کے پاس ان آئمہ اہل بیت حسنی ع کے بھی ذخیرہ حدیث و علم بھی محفوط ہیں۔

زیدی شیعوں کے سلسلہ امامت مین اثناعشری آئمہ امام باقر ع،امام جعفر صادق ع سے امام حسن عسکری ع تک ان کے آئمہ کی فہرست میں نہیں پھر بھی ان آئمہ ع کو علم کے امام سمجھ کر ان کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن زیدی شیعہ امام حسن عسکری ع کو لاولد مانتے ہین اور امام مھدی کی پیدائش کے قائل نہین۔زیدی شیعہ اہل سنت حضرات کی طرھ آخری وقت میں اہل بیت ع کے ایک عادل ھکمران یا امام جو یا امام حسین ع کی نسل سے ہون گے یا امام حسن ع کی نسل سے ہون گے امام مھدی مانتے ہیں۔اور اثنا عشری کے امام مھدی یعنی فرزند حسن عسکری ع کے منکر ہیں۔

زیدی شیعہ اگرچہ توحید،نبوت،امامت،عدل اور معاد کے قائل ہیں لیکن امامت کے سلسلے میں اثنا عشری شیعوں سے اختلاف کرتے ہیں ،ان کے ہان ان کا امام معصوم عن الخطائ نہیں ہوتا ،اور نہ ہی ان کی تعداد محدود ہے بلکہ تا قیامت سلسلہ امامت ان کے ہان جاری و ساری ہے اس کے علاوہ ان کے ہان نابالغ شخص امام نہیں بن سکتا۔پنجتن یا اصحاب کسائ کو نص قرآنی اور روایات کے تحت زیدی شیعہ معصوم مانتے ہین لیکن دیگر آئمہ کو معصوم نہیں سمجھتے ۔

زیدی شیعہ کے کلمے کے الفاط "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " ہے،اور زیدی شیعہ کسی کلمہ گو مسلمان کی تکفیر نہیں کرتے۔ زیدی شیعہ اصحاب رسول سے متعلق معتدل نطریہ رکھتے ہیں ان کے ہاں ترضیہ اور وقوف دونون نظریات اصحاب سے متعلق پائے جاتے ہین،لیکن امام ابن مرتضی کا موقف بہت معتدل کہا جاتا ہے ۔زیدیہ کے اس وقت کے مقبول علمائ استاد سالم عزان کی کتاب "الصحابہ عند الزیدیہ " اور استاد مرتضی اور استاد زید محطوری کی کتب مین اسی معتدل روئے کو بیان کیا ہے۔

زیدی شیعہ وضو میں اہل سنت کی طرح پاؤن دھوتے ہیں،کیونکہ امام زید ع کی فقہی تعلیم یہی ہے۔جس پر دیگر آئمہ اہل بیت ع کی روایات بسند معتبر امام علی ع سے مروی ہیں۔زیدی شیعہ نمازون کو الگ الگ اوقات میں پڑھتے ہیں اور ان کے ہان الگ الگ 5 وقت کی اذان ہوتی ہیں۔ان کے اذان کے الفاظ اہل سنت حضرات کی طرح ہے اور البتہ حی علی خیر العمل دو بار اثنا عشری کی طرح پڑھتے ہیں کیونکہ زیدی کتب میں آئمہ اہل بیت ع سے یہی کلمات اذان مروی ہیں،اور زیدی شیعہ اشھد ان علیا ولی اللہ نہیں پڑھتے اذان میں،اور لا الہ الا اللہ ان کے اذان کے آکر میں ایک ہی بار ہے دو بار نہیں۔

زیدی شیعہ کے ہاں جمع الصلوتین اگرچہ جائز ہے جیسا کہ اہل سنت حضرات کے ہاں لیکن الگ اوقات کو افضل سمجھ کر 5 وقت میں پڑھتے ہیں جیسا کہ اثناعشری اور سنی و زیدی کتب میں افضل وقت 5 الگ الگ ٹائم پڑھنا آیا ہے۔

زیدی شیعہ نماز بہت حد تک شافعی اہل سنت کی طرھ ہے،فرق یہ ہے کہ مالکی اور اثنا عشری شیعوں کی طرھ زیدی ہاتھ چھور کر نماز پڑھتے ہین۔ لیکن زیدی شیعہ اثنا عشری کی طرح سجدگاہ وغیرہ نہیں رکھتے۔زیدی شیعہ دیگر مسلمانوں کے پیچھے بغیر تقیہ کے نماز پرھتے ہین اور یمن میں اکثر اوقات زیدی شیعہ ،شافعی اہل سنت کی مساجد میں باجماعت نماز پڑھتے ہیں اور اہل سنت شافعی زیدیون کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مسجد زیدی شیعون کی ہے یا اہل سنت شافعیون کی۔

زیدہ نماز میں دونوں طرف سلام پھیرنے کو خروری خیال کرتے ہیں۔زیدی شیعہ نکاح متععہ اور نکاھ سری کو حرام سمجھتے ہیں اور اس کو زنا سمجھتے ہیں۔

زیدی شیعہ تقیہ کے اس طرح قائل نہیں جیسا کہ اثنا عشری ہیں،بلکہ آئمہ اہل بیت ع کی روایات جو زیدی کتب میں ہیں بغیر تقیہ کے ہین،حتی کہ امام جعفر صادق ع یا امام رضا و ھادی اور حسن عسکری جیسے آئمہ علم کی کوئی روایت تقیہ پر مبنی نہیں زیدی کتب میں۔

زیدی شیعہ نہج البلاغہ کو،صھیفہ سجادیہ وغیرہ کو مانتے ہیں اور امام رضا ع کی کتاب "صحیفہ الرضا" ع ان کی ایک معتبر کتاب ہے۔زیدی شیعہ دعائے کمیل بھی محافل و مجالس میں پڑھتے ہیں۔

زیدی شیعہ اہل بیت ع کے بہت زیادہ محب ہیں اور اس کو زبانی کی بجائے کردار اور عمل سے دکھانے پہ یقین رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ محرم میں امام حسین ع کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور مراسم عزاداری جس طرح اثنا عشری میں رائج ہیں ان کے ہان ایسا نہیں ہوتا۔

زیدی شیعہ فضائل اہل بیت ع پر مشتمل احادیث حدیث ثقلین،حدیث اہل بیتی کالنجوم،حدیث سفینہ،کساء،غدیر،اور حدیث منزلت کو مانتے ہیں اور ان کو اکثر بیان کرتے ہیں۔

¤حوثی اور زیدی شیعہ قسط 2¤
ﺣﻮﺛﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﮬﮯ ﺟﺲﮐﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﻗﺒﺎﯾﻞ Sub-tribesﮬﯿﮟ ،ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﺒﯿﻠﮧﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﯾﻌﻨﯽ 60 ﻻﮐﮫﺍﻓﺮﺍﺩ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧﮬﯿﮟ،ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺣﻮﺛﯽ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﻗﻠﯿﻞ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺍﮬﻞ
ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺛﻨﺎﻋﺸﺮﯼ ﺷﯿﻌﮧﮬﯿﮟ.ﺍﻭﺭ ﯾﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺛﯽﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻻﺣﻤﺮ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﮬﮯﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺷﺎﻓﻌﯽﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﻠﯿﻞ ﺗﻌﺪﺍﺩﺍﺛﻨﺎﻋﺸﺮﯼ ﻭ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮬﮯ.ﯾﻤﻦ ﮐﯽﮐﻞ ﺁﺑﺎﺩﯼ 25،952443 ﮬﮯﺟﺲ ﻣﯿﮟ 40ﻓﯿﺼﺪ ﯾﺎ 51 ﻓﯿﺼﺪ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮬﯿﮟ.
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﻤﻦ ﮐﮯﺑﺎﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻋﻼﻗﻮﮞﻣﯿﮟ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏﺑﮍﯼ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﻣﻮﺟﻮﺩﮬﮯ.ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﻮﮐﻠﮧﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺠﺪﯼﻭﮬﺎﺑﯽ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﭘﺮﻗﺒﻀﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺟﻨﮓﻟﮍﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﻌﺎﮬﺪﮦﻃﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ 1934ﻣﯿﮟ ﺻﻠﺢ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﮈﺭ
ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮬﻮﺋﮯ1962. ﮐﻮ
ﺟﺐ ﺍﺻﻼﺣﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭼﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﺮ ﮐﮯﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﺯﯾﺪﯼ ﺍﻣﺎﻣﺖﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺳﺎﺯﺵﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻋﺮﺏ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﺭﺩﻥ ﺍﻭﺭﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻧﮯ ﺯﯾﺪﯼﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ.ﺍﻭﺭ ﺍﻥﮐﮯ ﺣﻠﯿﻒ ﺭﮬﮯ.ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝﺟﻮﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﺑﻦﮔﺌﮯ ﮬﯿﮟ.
ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺪﯼ ﻓﺮﻗﮯ ﺟﺎﺭﻭﺩﯼ،ﺑﺘﺮﯼﺍﻭﺭ ﺳﻠﯿﻤﺎﻧﯽ ﻭ ﮬﺎﺩﻭﯼ ﮐﺎ
ﺫﮐﺮ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ
ﻭﻗﺖ ﺍﻟﺰﯾﺪﯾۃ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﺑﮧ
ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﻉ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮬﮯ.ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺛﯽ ﻭ ﺩﯾﮕﺮ
ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ "ﻓﻘﮧ ﺍﻟﺰﯾﺪﯾۃ" ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﮬﯿﮟ.ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮭﻠﮯﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ﻉ ﻧﮯﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ "ﻣﺼﺤﻒ ﻋﻠﯽ ﻉ"ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺼﺤﻒ
ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ
ﻣﯿﻮﺯﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ
ﮬﮯ.ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺪﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ
ﯾﺤﯽ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﺑﻦ
ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ 298ﮬﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽﮐﺘﺎﺏ"ﻣﺠﻤﻮﻉ ﺍﻟﺮﺳﺎﺋﻞﺍﻟﻤﻄﺒﻮﻉ" ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯﮬﯿﮟ:
"ﻭﮦ (ﻣﺼﺤﻒ ﻋﻠﯽ) ﺑﺎﻟﮑﻞﯾﮩﯽ ﺁﺝ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮬﻤﺎﺭﮮﭘﺎﺱ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ ﺣﺮﻑ ﺑﮧﺣﺮﻑ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮬﮯ ﺍﺱﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺣﺮﻑ ﺯﯾﺎﺩﮦﮬﮯ ﻧﮧ ﮐﻢ ﺳﻮﺍﺋﮯ : ﻗﺎﺗﻠﻮﺍ
ﺍﻟﺬﯾﻦ ﯾﻠﻮﻧﮑﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﮑﻔﺎﺭ
(ﺗﻮﺑﮧ ﺁﯾﺖ 123) ﮐﻮ ﯾﻮﮞﻟﮑﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ "ﺍﻗﺘﻠﻮﺍ ﺍﻟﺬﯾﻦﯾﻠﻮﻧﮑﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﮑﻔﺎﺭ."
ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﺋﻤﮧ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧﻗﺎﺋﻢ ﮬﻮﺍ 897 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﮐﻮﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻭﺍﻝ 1962ﻋﯿﺴﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺍ،ﯾﻌﻨﯽﭘﻮﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮬﺰﺍﺭ ﺗﮏ ﯾﻤﻦﻣﯿﮟ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ
ﻭ ﺍﻣﺎﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ
ﮐﯽ.
ﺯﯾﺪﯾﮧ ﺟﮭﺎﺩ ﻭﺧﺮﻭﺝ
ﮐﺎﻣﺬﮬﺐ ﮬﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻇﺎﻟﻢﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯽﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑﻗﯿﺎﻡ ﻭﺍﺟﺐ ﮬﮯ،ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺯﯾﺪﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ
ﺍﻟﻤﻠﮑۃ ﺍﻟﻤﺘﻮﮐﻠۃ ﺍﻟﯿﻤﻨﯿﮧ
ﮐﮯ ﺟﮭﻨﮉﮮ ﭘﺮ 1923 ﺳﮯ1927 ﺗﮏ"ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ" ﮐﮯﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟﺻﺮﻑ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﺍﺱﺟﮭﻨﮉﮮ ﭘﺮ ﻧﻘﺶ ﮐﯿﺎ.
ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥﻓﺮﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻧﻤﺎﺯﮐﻮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﯿﮟ.ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻘﺸﮧ ﺍﯾﮏ
ﺳﻨﯽ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﻧﮯ ﯾﻮﮞ ﮐﮭﯿﻨﭽﺎﮬﮯ ﮐﮧ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯﺟﻤﻌﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻄﺒﮧ ﻣﺼﺮﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﺍ ﺳﻨﯽ ﻋﺎﻟﻢﭘﮍﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺫﺍﻥﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺯﯾﺪﯼ ﺍﻣﺎﻡﮐﺮﺍﺗﮯ ﮬﯿﮟ.ﯾﻮﮞ ﮬﻤﺎﺭﮮﮬﺎﮞ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﺎ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﺧﺘﻢ
ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ.
ﺯﯾﺪﯾﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮔﻨﺎﮦ
ﮐﺒﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﺑﻐﯿﺮ
ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ
ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﺟﮭﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ.
ﺯﯾﺪﯾﮧ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﻭ ﺍﻟﺼﻠﻮۃ
ﺧﯿﺮﻣﻦ ﺍﻟﻨﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺖ
ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﯿﮟ.ﺯﯾﺪﯾﮧ ﮐﮯﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺁﺋﻤﮧ ﺍﮬﻞﺑﯿﺖ ﻉ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮬﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮦﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻋﻤﻞ ﯾﮩﻮﺩ ﻭﻣﺠﻮﺱ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯﺍﻣﺎﻡ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺑﻦ ﯾﺤﯿﯽ ﻧﮯﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻨﺎﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﻔﺲ ﺫﮐﯿﮧ ﺳﮯﺍﯾﮏ ﻗﻮﻝ ﮬﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﮐﺎﺁﯾﺎ ﮬﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻌﻘﺪﺍﻟﺜﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺷﺎﯾﺪﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺻﺎﻟﺢ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮔﻨﮯ ﭼﻨﮯ ﺯﯾﺪﯼ
ﺷﯿﻌﮧ ﮬﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ.
ﻋﻤﻮﻣﺎ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﮑﯽﭘﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺳﮯﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﮐﮧﺯﯾﺪﯼ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﮯﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﮬﯿﮟ.ﯾﮧ ﺩﺭﺳﺖﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺯﯾﺪﯾﮧ ﻓﻘﮧ ﺍﮬﻞﺑﯿﺖ ﻉ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟﺍﻭﺭ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ﺍﻣﺎﻡ
ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﻉ
ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺷﺮﺡ ﺯﯾﺪﯼﺁﺋﻤﮧ ﻭﻋﻠﻤﺎ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﯽﮬﯿﮟ.ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺟﺲﻃﺮﺡ "ﻋﺮﻭۃ ﺍﻟﻮﺛﻘﯽ" ﮐﻮﻓﻘﮭﯽ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﺛﻨﺎﻋﺸﺮﯼ
ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﮬﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﮬﻢ
ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﺘﮭﺪﯾﻦﻧﮯ ﻟﮑﮭﯽ،ﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮯ
ﮬﺎﮞ ﮐﺘﺎﺏ"ﺍﻻﺯﮬﺎﺭ"ﮐﻮ
ﯾﮩﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮ ﺷﺮﺣﯿﮟﺯﯾﺪﯼ ﻋﻠﻤﺎ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﮬﯿﮟ.


¤آخری قسط¤
چونکہ یمن کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے حوثی تحریک اورﺯﯾﺪﯼ ﺷﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ بہت سے لوگ جاننا چاھتے ھیں.اس لئے ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ،ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ
ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﯿﻠﮯ زیدی شیعوں کے ﺍﻥ
ﮔﺮﻭﭘﺲ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺋﻦ
ﮐﯿﺠﺌﮯ:
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮔﺮﻭﭖ:
https://www.facebook.com/groups/Zaidiyyah
ﻋﺮﺑﯽ ﮔﺮﻭﭖ:
https://www.facebook.com/groups/308262629304965
ﺍﺭﺩﻭ ﮔﺮﻭﭖ:
https://www.facebook.com/groups/1377059859260160




تحریر: بشری مہ جبین نور
ٹائٹل ڈیزائن: برادر سید علی احمد


1 comment:

  1. جزاک اللہ بے شک یہ وحدت امت کا خدائی راز ہے جزاک اللہ

    ReplyDelete